مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف والری گراسیموف نے کہا ہے کہ یوکرین میں جاری خصوصی فوجی آپریشن کے مقاصد پر عمل جاری ہے اور تمام محاذوں پر پیش قدمی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرینی مسلح افواج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور بٹالین سطح پر افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث یوکرین نے اپنی توجہ اضافی ڈرون یونٹس کی تشکیل پر مرکوز کر دی ہے۔
روسی جنرل کے مطابق روسی افواج اوسطاً دشمن کے مقابلے میں دوگنا ڈرون استعمال کر رہی ہیں اور فروری کے پہلے دو ہفتوں میں سخت سرد موسمی حالات کے باوجود 12 بستیوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔
گراسیموف نے بتایا کہ شمال نامی یونٹ کی فورسز سومی اور خارکیف کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی پٹی کو وسیع کر رہی ہیں، جبکہ سومی کے علاقے میں مختلف علاقوں کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق یونٹ زاپروژیا کے مشرقی حصے میں اپنی پیش قدمی بڑھا رہا ہے، جبکہ یوکرینی افواج نے اس پیش رفت کو روکنے کے لیے اپنے حملہ آور دستے دیگر محاذوں سے وہاں منتقل کیے ہیں۔
آپ کا تبصرہ